Anokhay Poday|Urdu stories|Urdu short stories|JS Urdu Quotes

    انوکھے پودے                      

ریو تھی موسیقی سیکھ رہی تھی۔ خالی وقت میں اُسے وائلن بجانے میں بہت مزہ آتا۔ اُس کے گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا مسکن تھا جس میں اک چھوٹی سی سیمنٹ کی بینچ بھی بنی ہوئی تھی۔ جس پر بیٹھ کر وہ وائلن کی مشق کرتی تھی۔ گملوں میں لگے پودے بھی صحن میں رکھے تھے۔ ایک دن وائلن بجاتے بجاتے اس کی نظر دیوار کے پاس رکھے ایک گملے پر پڑی۔ جس میں گل مہندی کے پودے لگے ہوئے تھے۔ یہ پورے دیکھنے میں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ اُن کی پتیوں کا ہر ارنگ کچھ پیلا پڑ گیا تھا اور اُن کی بڑھواڑ بھی کچھ رک سی گئی تھی۔ اُسے یاد آیا کہ اُس نے پہلے کبھی کسی کلاس میں پڑھا تھا کہ صحیح بڑھواڑ کے لئے پودوں کو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس نے گملے کو صحن کے بیچ میں ایسی جگہ رکھ دیا جہاں خوب دھوپ آتی تھی۔ پودے کی جگہ بدلتے وقت ریو تھی کو خیال آیا کہ کیوں نہ کالونی میں ہونے والے بہترین پودے کے مقابلے میں حصہ لیا جائے۔ مقابلہ ہونے میں ابھی دو تین ہفتے باقی تھے۔ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ مقابلے میں ضرور حصہ لے گی۔ یہ فیصلہ کرتے ہی اُس نے اُسی وقت پورے کو پانی دیا اور بینچ پر بیٹھ کر وائلن بجانے لگی۔ اُسے راگ موانم ، بہت پسند تھا۔ کچھ دیر وہ راگ بجاتی رہی پھر پڑھنے کے لئے اندر چلی گئی۔ ہر روز کی طرح ایک دن شام کو اسکول سے واپس آنے کے بعد وہ اپنے پودوں کے پاس گئی۔ پودے بہت تر و تازہ اور صحت مند لگ رہے تھے۔ مگر اُس نے دیکھا کہ ایک پتی بس آدھی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کپڑے نے آدھی کھالی ہو۔ ریو تھی پریشان ہو گئی۔ مقابلے میں دو چار دن ہی رہ گئے تھے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس وقت اُسے اپنے پودوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اُس نے غور سے پودوں کو دیکھا تو اُسے ایک شاخ پر ایک کیڑا رینگتا نظر آیا۔ اُس نے فور اچھوٹی سی لکڑی سے کیڑے کو ہٹایا اور پودوں پر کیڑے مار دوا چھڑک دی۔ اُسے اطمینان ہو گیا کہ اب اُس کے پودے محفوظ ہیں۔
پھر وہ روزانہ بینچ پر بیٹھتی اور اپنے پودوں کو دیکھتی۔ وہ صحن کے دوسری طرف لگے پودوں سے زیادہ اچھے اور ترو تازہ لگتے تھے۔ ایک دن وائلن بجاتے بجاتے اُس نے دیکھا کہ گملے میں لگے پودوں میں کچھ حرکت ہو رہی ہے۔ وہ اپنے تنے ہلا ہلا کر اُس کی طرف جھک رہے ہیں۔ اُسے حیرت ہوئی کہ
پودے کیوں ہل رہے ہیں جب کہ اُس وقت ہوا بھی نہیں چل رہی ہے۔ اُسے کچھ عجیب سا لگا۔ اگلے دن شام کو اُس نے ہمیشہ کی طرح وائلن بجایا اور پودوں کو دھیان سے دیکھنے لگی۔ کچھ دیر بعد پودے اُسی طرح ہلنے لگے۔ جیسے پچھلے دن ہل رہے تھے۔ اُسے اُن کا اپنی طرف بار بار جھکنا کھائی
دے رہا تھا۔ اُسے بہت حیرت ہوئی کیونکہ اُس دن بھی ہوا نہیں چل رہی تھی۔ ریو تھی بینچ پر بیٹھ گئی۔ اور وائکن پر تیز لے کی دوسری دُھن بجانے لگی۔ اچانک اُس نے دیکھا سارے پورے دوسری طرف مڑ گئے۔ جیسے انھیں یہ ڈھن اچھی نہ لگی ہو۔ اُس نے پھر اپنی وہی پرانی خاص دُھن بجائی۔ اور پودے سیدھے ہو کر اُس کی طرف جھکنے لگے۔ اب اُس کا خیال یقین میں بدل گیا کہ اُس کے پودوں کو اُس کی پسندیدہ دھن اچھی لگتی ہے۔
یہ بات اُس نے کسی کو نہیں بتائی۔ کسی کو بھی نہیں اپنی ماں تک کو بھی نہیں۔ مقابلے کے بس دو چار دن رہ گئے تھے۔ اُسے یہ دیکھ کر بھی حیرانی ہوئی کہ اُس کے پودے نہ صرف دوسرے گل مہندی کے پودوں سے بڑے اور صحت مند تھے بلکہ اُن میں دوسرے پودوں سے پہلے پھول بھی کھل گئے تھے۔ بہت ہی بڑے اور کھلے ہوئے رنگ کے پھول تھے۔ اور ایک پودے کے پھول تو بالکل ہی نئی قسم کے تھے۔ بنفشی رنگ کے پھول پر سفید دھاریاں پڑی ہوئی تھیں۔ اب اُسے یقین تھا کہ اُسے سب سے اچھے پورے کا انعام ضرور ملے گا۔ وہ سونے چلی گئی۔ اور رات بھر خواب میں اپنے پودوں اور اُس
نئی قسم کے پودوں کو دیکھتی رہی۔ آنے والا دن وہی خاص دن تھا۔ جس کا اُسے انتظار تھا۔ اگلے دن وہ صبح سویرے اٹھتے ہی سیدھی صحن میں پودوں کو دیکھنے پہنچ گئی۔ تھوڑی دیر وہ آنکھیں جھپکائے ویکھتی رہی۔ کیونکہ وہاں نہ گلے تھے نہ پودے۔ اُس نے ادھر ادھر دیکھا۔ شاید کسی نے ہٹا کر کہیں اور رکھ دیئے ہوں۔ سب جگہ ڈھونڈا۔ اپنی ماں سے پوچھا۔ اُنھوں نے کہا اُنھیں نہ گملوں
کی کوئی خبر ہے نہ پودوں کی۔ ہاں کل دو پہر میں کچھ پڑوسی ضرور آئے تھے۔ جو ان تر و تازہ پودوں اور خوبصورت پھولوں کی بہت تعریف کر رہے تھے ۔ مگر اُس کے بعد وہ اندر گھر میں لگ گئیں۔ اور دوبارہ صحن میں نہیں جاپا ئیں۔ ریو تھی کو بے حد دکھ ہواوہ محلے بھر میں ہر ایک سے پوچھتی پھری۔ مگر کوئی گملوں کے پاس بھی نہیں آیا تھاوہ اپنے معمولی گملوں کے لئے پولس سے بھی شکایت نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس کا سب کچھ گم ہو گیا ہو۔ اُسے انعام کا بھی اتنا غم نہیں تھا۔ مگر اپنے پورے اُسے بہت یاد آرہے تھے۔ آج اُسے لگا وہ اپنے پودوں سے کتنا پیار کرنے لگی تھی۔ وہ اُس کے دوست تھے اُس کی موسیقی کا مزہ لینے والے دوست۔
شام کو اُس کے سب دوست تقسیم انعامات کے جلسے میں جارہے تھے۔ مگر اُس کا دل نہیں چاہتا تھا کہ وہاں جائے پھر بھی اُس کے دوستوں نے جب بہت ضد کی تو وہ راضی ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر وہ سیدھی اُس طرف چلی گئی جہاں بہت سے گملوں میں لگے پودے رکھے تھے۔ ریو تھی حیران رہ گئی سامنے بینچ پر اُس کا گملا بھی رکھا ہوا تھا۔ اور اُس کی مٹی میں چھوٹے سے کارڈ پر مقابلے میں حصہ لینے والے کا جو نام لکھا تھا وہ اُس کے گھر سے کافی دور رہنے والے ایک پڑوسی کا تھا۔ وہ اچھی طرح پہچان گئی کہ یہ اُس کا پودا ہے۔ وہ سیدھے مقابلہ کا انتظام کرنے والوں کے پاس گئی اور انھیں ساری بات بتائی۔ اُن لوگو کو یقین نہیں آیا۔ اُنھوں نے کہا تمھارے پاس کیا ثبوت ہے ؟ جن صاحبہ نے یہ پودا
مقابلے میں شامل کیا ہے وہ تو ہر سال مقابلے میں حصہ لیتی ہیں۔ ہم اُن پر کیسے شک کر سکتے ہیں۔ ریو تھی سوچ میں پڑ گئی کہ اُن لوگوں کو کیسے اپنی بات کا یقین دلائے۔ وہ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر پودوں کو دیکھنے لگی۔ اور پھر پکا ایک اُس کے دماغ میں وہ تصویر گھومنے لگی۔ جب وہ وائلن بجاتی تھی اور پورے اُس کی طرف جھک کر جھومنے لگتے تھے۔ اُس نے مقابلے کا انتظام کرنے والوں سے کہا۔ میں ثابت کر سکتی ہوں کہ یہ میرے ہی پودے ہیں۔ پھر اس نے سیدھی اپنے گھر کی طرف دوڑ لگاری۔ اور ذراسی دیر میں جب وہ اپنا وائکن لے کر لوٹی تو سب لوگ اُسے دیکھ کر ہنے لگے۔ اُس وقت اُسے کسی کی مذاق اڑانے کی پرواہ e Wina نہیں تھی۔ ریو تھی نے اُن سے کہا۔ میں اپنے پودوں کو خوب پہچانتی ہوں اور ہمارے درمیان ایک راز کی

Anokhay Poday|Urdu stories|Urdu short stories|JS Urdu Quotes

بات بھی ہے۔ میرے پودے بھی میری طرح موسیقی کے شوقین ہیں۔ آپ لوگ دیکھئے کہ جب میں وائلن بجاؤں گی تو وہ کیسے اپنی خوشی کا اظہار کریں گے۔ سب لوگ اور زور سے ہننے لگے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ پورے بھی موسیقی کے شوقین ہوتے ہیں۔ سب نے پوچھا کہ کیا پودوں کے بھی ہماری طرح کان ہوتے
ہیں جو وہ تمھاری موسیقی سن سکیں گے ؟ کسی کو اُس کی بات پر یقین نہیں تھا۔
ریو تھی کو یہ باتیں بری تو بہت لگیں، مگر اُس نے طے کر لیا کہ وہ اپنے پودے واپس ضرور لے گی۔ وہ پودوں کے پاس بیٹھ گئی۔ اور آہستہ آہستہ اپنا پسندیدہ راگ بجانا شروع کیا۔ اپنی دھن میں
مگن ہو کر کچھ دیر کے لئے وہ اپنے پودوں کو بھی بھول ہی گئی۔ مگر باقی لوگ تو دیکھ ہی رہے تھے۔ حیرت سے اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اُنھوں نے دیکھا کہ پودے پہلے کچھ سیدھے ہوئے اور پھر ریوتی کی طرف تھوڑے سے جھکے۔ ریو تھی وائلن بجاتی رہی ، پودوں کے تنے اُس کی طرف ایسے جھک گئے جیسے وہ خوشی کے مارے ریو تھی کو چھونا چاہتے ہوں۔ مقابلے کا انتظام کرنے والے حیرت سے بت بنے ہوئے تھے۔ قدرت کا یہ کرشمہ اُن سب نے پہلی بار دیکھا تھا کہ پودے موسیقی پر جھوم رہے تھے اور اتنی بڑی ایجاد کا سہرہ ریو تھی کے سر تھا۔ اُن سب نے اُس کی تعریف کی اور کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ پودے تمھارے ہی ہیں۔ سب لوگ اُس کی پڑوسن کے پیچھے پڑگئے۔ اور اُس کی خوب کھنچائی کی۔ آخر اُس نے قبول ہی کر لیا کہ اُس نے ریو تھی کے پودے چرائے تھے۔ اُس نے بتایا کہ ریو تھی کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے اُس کو یہ پودے نظر آئے اور اُس نے رات کو چپ چاپ انھیں چرا کر اپنے گھر رکھ لیا تھا اور پھر مقابلے کے لئے جمع کر دیا۔ کیونکہ وہ ہر سال مقابلے میں حصہ لیتی تھی اس لئے کسی کو کوئی شک بھی نہیں ہوا۔
مقابلے کے جوں نے فیصلہ کیا کہ پہلا انعام ریو تھی کے پوروں کو ہی ملنا چاہیے کیونکہ وہ
سب سے زیادہ صحت مند اور خوبصورت ہیں۔ ریو تھی انعام اور اپنے پودے لے کر بڑے فخر کے ساتھ اپنے گھر آئی۔

Post a Comment

0 Comments